Friday , April 19 2019
Home / Misc. / Meetings with Osama Bin Laden – Rahimullah Yousufzai

Meetings with Osama Bin Laden – Rahimullah Yousufzai

دو ملاقاتوں کی کہانی

رحیم اللہ یوسفزئی

پشاور

صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کی اسامہ بن لادن سے مئی اور پھر دسمبر 1998 میں ملاقات ہوئی

القاعدہ تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن سے ہوئی دو ملاقاتیں سال 1998ء کے دوران ہوئیں‘ جن سے اُن کی زندگی کے بارے میں کچھ جاننے کا موقع ملا۔ پہلی ملاقات افغانستان کے صوبہ خوست کے جنوب میں ’البدر تربیتی کیمپ‘ میں ہوئی‘ جو پاکستان کے قبائلی علاقہ شمالی وزیرستان سے متصل ہے۔ چھبیس مئی انیس سو اٹھانوے کو ذرائع ابلاغ کے دیگر نمائندوں کے ساتھ میں بھی اُس پریس کانفرنس میں شریک تھا جو القاعدہ کے سربراہ نے طلب کی تھی۔ سنہ2001ء میں افغانستان پر ہوئے امریکی حملے میں شیخ تاثیر عبداللہ مارے گئے تھے، جس کے بعد الظواہری نے اسامہ بن لادن کے نائب کا عہدہ سنبھال لیا اور انہیں القاعدہ تنظیم کا نظریاتی سربراہ بھی کہا جانے لگا۔ الظواہری اچھی انگلش بولتا تھا، اور اسامہ بن لادن سے ہوئی میری بات چیت کے دوران انہوں نے ہی مترجم کے فرائض بخوبی ادا کیے۔ خوست میں ہوئی پریس کانفرنس کے دوران اسامہ بن لادن نے’انٹرنیشنل اسلامک فرنٹ‘ کے قیام کا اعلان کیا‘ جس کا مقصد صیہونیت اور نصرانیت کے خلاف جہاد کرنا تھا۔ صیہونیت سے مراد اسرائیل جبکہ نصرانیت سے مراد امریکہ لیا جاتا ہے۔ اسامہ بن لادن نے نئی تنظیم کے قیام کے ساتھ القاعدہ کے اس میں ضم ہونے کا بھی اعلان کیا۔

جب پوچھا گیا کہ آپ کی تین بیویاں ہیں لیکن آپ کے بچوں کی کل تعداد کیا ہے؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ’(بچوں کی تعداد اتنی ہے کہ) میں گنتی بھول گیا ہوں‘۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ سعودی عرب میں آپ کے خاندان نے آپ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے کیا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’خون پانی سے زیادہ ہلکا ہوتا ہے‘۔جب اُن سے مالی حیثیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُسامہ بن لادن نے اپنا دایاں ہاتھ دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ ’میں دل سے غنی ہوں‘۔

پریس کانفرنس کے دوران اسامہ بن لادن نے مسلم امہ کے بیشتر مصائب کا ذمہ دار اسرائیل اور امریکہ کو قرار دیا۔ امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے مسئلہ فلسطین کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ امریکی مالی و دفاعی تعاون سے اسرائیل فلسطینوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔ اُنہوں نے اپنے آبائی وطن سعودی عرب میں اَمریکی فوجوں کی موجودگی پر بھی تنقید کی تھی۔ فلسطین پر اِسرائیل کے قبضے کا خاتمہ اور سعودی عرب سے غیر ملکی فوجوں کا انخلاء اُن کی جدوجہد کا مرکزی خیال تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے دیگر اسلامی عسکریت پسند تنظیموں کو یکجا کریں گے۔ خوست میں اسامہ بن لادن کی آمد پر اُن کا استقبال کرنے والوں نے ہوائی فائرنگ کی۔ اسامہ چار یا پانچ گاڑیوں کے قافلے میں وہاں پہنچے تھے جن کی حفاظت کرنے والوں کے پاس خودکار ہتھیاروں کے علاوہ (دستی) راکٹ لانچر بھی تھے۔ استقبالیہ مناظر کو دیکھنے والوں کو بعد میں معلوم ہوا کہ ہوائی فائرنگ کرنے والے القاعدہ تنظیم کے اراکین نہیں تھے بلکہ انہیں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو مرعوب کرنے کے لیے یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ خاموش طبع اور شرمیلے اسامہ بن لادن نے پریس کانفرنس کے بعد میزبانی کے دوران پوچھے گئے سوالات کے مزاحیہ انداز میں جواب دیے۔ جب پوچھا گیا کہ آپ کی تین بیویاں ہیں لیکن آپ کے بچوں کی کل تعداد کیا ہے؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ’(بچوں کی تعداد اتنی ہے کہ) میں گنتی بھول گیا ہوں‘۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ سعودی عرب میں آپ کے خاندان نے آپ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے کیا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’خون پانی سے زیادہ ہلکا ہوتا ہے‘۔

وہ نرم لب و لہجے کے مالک تھے اور ان کی ظاہری چال ڈھال اس تاثر سے قطعی مختلف تھی اور ان سے ملاقات کرنے والا یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا تھا کہ اسامہ بن لادن سیاسی وجوہات کی بناء پر خون خرابے کے جائز سمجھتے ہوں گے۔رحیم اللہ یوسفزئی

اور جب اُن سے مالی حیثیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُسامہ بن لادن نے اپنا دایاں ہاتھ دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ ’میں دل سے غنی ہوں‘۔ دسمبر انیس سو اٹھانوے میں افغانستان کے شہر ہلمند میں ہوئی ہماری ملاقات طویل تھی۔ یہ ملاقات ایک خیمے میں ہوئی‘ جس میں ایمن الظواہری، اسامہ بن لادن کے صاحبزادے محمد اور کم و بیش بیس دوسرے افراد موجود تھے۔ 23 دسمبر 1998ء کو قندھار کی ٹھٹھرتی رات میں چھ گھنٹے انتظار کے بعد کچھ لوگ مجھے دنیا کے انتہائی مطلوب شخص سے یادگار انٹرویو کے لیے لینے آئے‘ ان کے ہمراہ کچھ عرب (مجاہدین) بھی تھے۔ القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن انگریزی زبان سمجھتے تھے۔ جب بھی ان سے سوال کیا جاتا وہ مترجم ایمن الظواہری کے (انگلش سے عربی) ترجمے سے قبل ہی جواب دینا شروع کر دیتے تھے۔ انہوں نے کچھ الفاظ فارسی اور پشتو زبان کے بھی بولے تھے۔ انہوں نے بات چیت عربی زبان ہی میں کی جس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’میں عربی زبان میں اپنا مدعا زیادہ واضح طور پر بیان کر سکتا ہوں‘۔ وہ نرم لب و لہجے کے مالک تھے اور ان کی ظاہری چال ڈھال اس تاثر سے قطعی مختلف تھی اور ان سے ملاقات کرنے والا یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا تھا کہ اسامہ بن لادن سیاسی وجوہات کی بناء پر خون خرابے کے جائز سمجھتے ہوں گے۔

(بشکریہ دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

About Tahir

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.