Saturday , September 22 2018
Home / Politics / About Mazar/Dargah Shah Noorani Hub Balochistan near Karachi

About Mazar/Dargah Shah Noorani Hub Balochistan near Karachi

About Mazar/Dargah Shah Narooni Near Hub Balochistan?

Who is Shah Bilawal Noorani?

Where is La-Hoot, La-Makan?

Where Muhabbat Faqeer?

Bagh, Tiger (Sher), Natural (Qudarti) Chashma, Stove (Chohla) of Hazrat Fatima ul Zahra?

 

شاہ نورانیؒ کی درگاہ صدیوں پرانی، زائرین 7 پہاڑ عبور کر کے پہنچتے ہیں

کراچی (خصوصی رپورٹ) بلوچستان کے دورافتادہ علاقے وڈھ میں ایک اہم زیارت گاہ ”لاہوت لامکاں“ کہلاتی ہے۔ اس جگہ کے بارے میں روایات ہیں کہ کائنات میں سب سے پہلے یہی مقام تخلیق کیا گیا تھا اور کچھ روایات کے مطاق حضرت آدم علیہ السلام کو اسی جگہ اتارا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ ہر سال یہاں دشوار گزار راستہ طے کرکے آ تے ہیں۔ اس کے نزدیک ہی ایک مشہور بزرگ شاہ بلاول نورانیؒ کا مزار بھی ہے۔ کراچی سے حب کے راستے بلوچستان جاتے ہوئے اس سلسلہ کا پہلا پڑاﺅ ”محبت فقیر“ کے مزار پر ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں روایت ہے کہ یہ حضرت علیؓ کے غلام تھے۔ شاہ بلاول نورانیؒ یہاں سے نزدیک ہی ہے۔ اس کے نزدیک ہی ایک مسجد بھی موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو کسی نے تخلیق نہیں کیا یہ خود ہی وجود میں آئی ہے اور یہاں ایک دیدہ زیب پتھر بھی نظر آتا ہے۔ اس قدم گاہ سے نزدیک ہی پریوں کا باغ بھی موجود ہے۔ اس باغ میں کھجور‘ املی اور دوسرے جنگلی درختوں کے ساتھ آم کے درخت نظر آتے ہیں جن میں جابجا اللہ واضح لکھا نظر آتا ہے۔ یہاں کے بارے میں روایت ہے کہ یہاں ایک ظالم دیو گوکل کی حکومت تھی اور لوگ اس سے تنگ تھے۔ ان لوگوں نے اللہ سے دعا کی تو ایک نورانی صورت بزرگ تشریف لائے جنہوں نے اس دیو کو شکست دیکر لوگوں کواس کے ظلم سے آزاد کروایا۔یہ بزرگ شاہ بلاول نورانی تھے جن کا مزار آج بھی ہے۔ جنات کے اس مقابلے کی نشانیاں اس پہاڑ کے سنگلاخ بدن پرآج بھی موجود ہیں اس پہاڑی علاقہ پر جابجا ایسے نشانات موجود ہیں جس پر بھاگتے قدموں کے نشانات اور خراشوں اور لڑائیوں کے نشانات واضح ہیں۔ روایات میں ہے کہ دیو کو قید کرکے باغ اور اس کے مضافات میں پانی پہنچانے کا کام سونپ دیا گیا اور صدیوںسے بہتے ہوئے اس چشمے سے پریوں کا باغ اور دیگر کھیت سیراب ہورہے ہیں۔ اس باغ سے اصلی زیارت گاہ ”لاہوت لامکاں“ کے راستے نکلتے ہیں۔ پیدل زائرین کےلئے سات پہاڑوں کو عبور کرکے زیارت گاہ تک پہنچنا پڑتا ہے۔ اس راستے سے صرف سخت جاں لوگ ہی گزر سکتے ہیں ۔ دوسرا راستہ قدرے آسان ہے۔ اس راستے پر لوہے کی سیڑھیاں موجود ہیں۔ دیکھنے میں یہ سیڑھیاں بہت کمزور ہیں لیکن کئی سو من وزن آسانی سے برداشت کرلیتی ہیں۔ ہزاروں زائرین ایک ہی وقت میں چڑھتے اترتے ہیں۔ یہاں سے آگے ایک ایسی جگہ بھی آتی ہے جو حضرت لعل شہباز قلندر رحمة اللہ منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے یہاں آگ جلائی اور چلہ کشی کی۔ اس کے بعد ایک غار آتا ہے اور غار میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے پاﺅں ایک ایسے پتھر پر پڑتا ہے جوکہ شیر کی سی صورت کا ہے اسے ”نگہبان“ کہا جاتا ہے۔ یہ شیر روایت کے مطابق ان زیارت گاہوں کی حفاظت پر مامور ہے۔ اس غار میں داخل ہونے سے قبل ایک خاص صابن سے منہ دھونا پڑتا ہے۔ یہ صابن پتھر پر پانی گرنے سے بنتا ہے اور اس سے منہ دھوتے ہی غار کا اندھیرا ختم ہوجاتا ہے اور ہرچیز روشن ہوجاتی ہے اسی غار میں پتھر کی بنی ایک اونٹنی بھی ہے اور ایک پتھر بھی جو فرش سے برآمد ہوکر غار کی چھت کی طرف بڑھ رہاہے۔ اسی جگہ پر ایک پتھر کا چولہا بھی ہے جس کے بارے میں روایات ہیں کہ یہ دخترِ رسول خاتون جنت حضرت بی بی فاطمتہ الزہرہؓ کا چولہا ہے۔ یہاں ایک قدرتی چشمہ بھی موجود ہے جو سبیل کہلاتا ہے۔ اس چشمے کے نیچے ایک قدرتی پتھر کا پیالہ ہے جو عین اس پیالے کے اوپر پہاڑ سے پانی ٹپکارہا ہے۔ سیڑھیاں عبور کرنے کے بعد ایسے پتھر سے سامنا ہوتا ہے جس کی صورت میں ایک ایسی صورت موجود ہے جو کسی خونخوار جانور کی سی ہے لیکن اب پتھر کی طرح ساکن ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسی بلاتھی جو روزانہ دیگ بھر دال‘ منوں کے حساب سے روٹیاں اور ایک جیتے جاگتے انسان کو کھا جاتی تھی یہاں ایسے پتھروں پر بھی نظر پڑتی ہے جن کی شکل خونخوار جانور اور شیر سے ملتی ہے۔ انکے بارے میں بھی روایات ہیں کہ یہ اصل درندے تھے لیکن روحانیت کی طاقت سے انکو پتھر بنا دیا گیا۔ یہ درگاہ صدیوں پرانی ہے۔

 

About Tahir

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.